جولائی ۲۰۲۶

غزل

خاموشی کا موسم

یہاں کچھ لوگ خاموشی میں بھی بولتے ہیں جو کہہ نہ سکے وہ آنکھوں سے کھولتے ہیں زمانہ گزرتا ہے، لمحے بھی جاتے ہیں پر یادوں کے پتھر دل میں ڈھولتے ہیں

غزل

غزل

فیض احمد فیض

Rekhta ↗

گلوں میں رنگ بھرے

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے کبھی تو صبح ترے کنج لب سے ہو آغاز کبھی تو شب سر کاکل سے مشکبار چلے بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہی تمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے حضور یار ہوئی دفتر جنوں کی طلب گرہ میں لے کے گریباں کا تار تار چلے مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیں جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

مسلسل غزل

بحرِ طویل

مضطر خیرآبادی

بحرِ طویل

پہلا مصرع اے سے کیوں ہم نے دیا دل، جو ہے بے مہری میں کامل، جسے عادت ہے جفا کی، جسے پڑھ مہر ووفا کی، جسے آتا نہیں انہیں، غم وحسرت کا مٹانا، جو ستم میں ہے یگانہ، جیسے کہتا ہے زمانہ، بُت بے مہر ودغا باز، جفا پیشہ فسوں ساز، ستم خانہ براندازِ غضب جس کا ہے راک ناز، نظر فتنہ مژہ تیر، بلا زلف گرہ گیر، غم ورنج کا بانی، قلق ودردِ کا موجب، ستم وجور کا استاد، جفا کاری میں ماہر، جو ستم کیش وستم گر، جو ستم پیشہ ہے دلبر، جسے آتی نہیں اُلفت، جو نہیں چاہتا محبت، جو تسلّی کو نہ سمجھے، جو تشفّی کو نہ جانے، جو کرے قول نہ پورا، کرے ہر کام ادھورا، یہی دن رات تصوّر ہے کہ ناحق اسے چاہا، جو نہ آنے نہ بلائے، نہ کبھی پاس بٹھائے، نہ رخ صاف دکھائے، نہ کوئی بات سنائے، نہ دلی دل کی بجھائے، نہ دلکی دل کی کھلائے، نہ غم ورنج گٹائے، نہ رہ و رسم بڑھائے، جو کہو تو خفا ہو، کہ شکوے کی ضرورت، جو یہی ہے تو نہ چاہو، جو نہ چاہوگے تو کیا ہے، نہ بہاہوگے تو کیا ہے، بہت اتراو ندل دے کے، یہ کس کام کا دل ہے، غم واندوہ کا مارا، ابھی چاہوں تو میں رکھدوں اسے تلووں سے مسل کر، ابھی منہ دیکھتے رہ جاو کہ ہیں! ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا · · · دوسرا مصرع بس اسی دھیان میں ہم تھے کہ ہوئی پاوں کی آہٹ، نظر اُٹھی تو یہ دیکھا کہ چلا آتا ہے وہ زہرہ جبیں، ماہ جبیں، ظرفہ حسیں، پردہ نشیں، لُعبت چیں، دل کامکیں، دشمن دیں، ساتھ مگر کوئی نہیں، دھک سے ہوا دل کہ یہ اس وقت کہاں، اس سے جو پوچھا کہ تاخیر تو ہے، کیوں ادھر آیا تو جواب اس نے دیا بانسہ کے، یہ یونہی، تجھ گیا کام کہ تو پوچھ رہا ہے، کوئی قاضی، تراکیا آتا ہے کہ مفتی، جو مجھے ٹوکے وہ تو کون، تراکیا ہے اجارہ، یہ کہاو اور مرے پاس، یہی یوں ہی بیٹھ گیا باب کے زانو، بس اُدھر دیکھا ادھر دیکھ، مرے دل کو ٹٹولا، پہ دواں دل کب ملتا ہے، ناچار کہا کیوں جی! کوئی اور بھی دل ہے، ہمیں حاجت ہے جلانے کی، دکھانے کی، ستانے کی، گڑھانے کی، مٹانے کی، اگر دو تو بڑا کام کروں، سن کے یہ بات اس سے کہا میں ہے کہ کچھ خیر تو ہے، ایک ہی دل تھا سووہ ٹولے لی، دو بھی کہیں ہوتے ہیں دنیا میں کسی کے جو ٹولنے کو ہے آیا، تو وہ بولا اجی جاو، ذرا تم توشرماو، جی! بھلا حکم اُٹھایا کہ مری بات، کہیں ہی کاٹی، کہیں ہیں دیتے ہیں جواب اسی کاسا، ارے توبہ ارے توبہ، چلو بیٹھے رہو باتیں نہ بناو، تم اسی منہ سے یہ کہتے تھے تمہیں، ہم سے سمجھاو، جو ہو جاو، محبت کا بھلا نام ڈبویا · · · تیسرا مصرع کبھی ان کو جو سنایا غم دل، بنس کے وہ بولے کہ بڑے بھولے ہو توبہ، وہ سناتے ہو کہانی کہ یقیں جس پہ نہ آئے، وہ بیان کرتے ہو قصہ جو ذرا دل کو نہ بھائے، تم اسے چھوڑ دو، اچھی نہیں یہ بات کہ گر گڑھ گڑھ کے سناتے ہو افسانہ، ابھی اس کو اور نہیں اس کو کیا، میں کہیں، تم تو بڑے ہو، وہ خدام سے بچائے، چلو جاو، ہم سویں گے، چولہے میں گئیں آپ کی باتیں، مری نیند اُڑ گئی سن کر، مجھے آنے لگے چکر، مرادل ہو گیا مضطر نہیں سنتے کہ ہوا کیا، بھی سنتے ہیں کہانی مگر ایسا بھی غضب کیا، کہ نہ سر ہے نہ کہیں پیر، وہی بات آ گئی جی میں، تمہیں لازم نہیں ایسا، ذرا دیکھو، اسی دنیا میں بہت لوگ حسینوں پہ فدا ہیں، انہیں کیا کہنا آتا ہے، وہ کیا پکچھو کہتے ہیں، مگر یوں نہیں کہتے، کہ اکل ٹپ جو ہوئی ضد تو ہوئی ضد، جو لگی ہٹ، تو لگی ہٹ، جو بندھی دھن تو بندھی دھن، نہ غم دل شکنی ہے، نہ سرمر کم تنّی ہے، جو تشنّی ہے توشنّی ہے، کہیں ان باتوں میں تم مکھاوگے ڈھوکہ، کہیں تم مکھاوگے منہ کی، نہ ملے گا کوئی شرہ، تمہیں سب لوگ کہیں گے، یہ وہی ہے کہ جسے ضبط کا یار نہیں، خاموشی گوار نہیں، جب، ہوگی یہ تشہیر، تو ہو جاوگے پلکے، نہ کہے گا کوئی اپنا، کہ ایسا نہ ہو کہہ دو، جو بنی بات بھی بگڑے · · · چوتھا مصرع جو سنا میں نے تو لگی سر پہ بجلی، پٹ سے کہا منہ پہ کہ جا رے بُت عیّار، جفا کار، ستم گار، دل آزار، تجھی کو ہے سزاوار، کہ سیدھی کو تو اُلٹی کہے اُلٹی کو سیدھی، کرے بے مہری کی بوچھار، غم ورنج کا مار، تجھے پاس محبت، نہ محبت سے سرکار، نہ الفت سے علاقہ، نہ ہے الفت کا خریدار، نہ چاہت سے تعلق، نہ تو چاہت تجھے درکار، فقط اپنی ہی صورت پہ ہے وہ ناز کہ رکھتا ہی نہیں اپنے پاوں زمیں پر، تری نظروں میں چمن دشت ہے گل خار، پر اچھی نہیں یہ بات، سناتو نے یہ بات، کہ عزازیل کو اللہ نے سجدے کے نہ کرنے پہ کیا مورد لعنت، وہ ملک ہو کے ہوا مفت میں شیطان، تو توری اے بُت، نہیں کافر، نہ کچھ خاک بھی ہستی، یہ جوانی کہ جو اترائے کہ لے پکڑتی ہے تجھ کو یہ پلی جاوگی دن میں، یوں جیسے کہ بدم صبح کا جھونکا، تجھے اس وقت گروں گا میں سلام ارے بُت کافر، کہ بھلا وہ کہاں ہے وہ تجفل، وہ تغافل، وہ تکبر، وہ تبسم، وہ تشرارت، وہ حرارت، وہ غضب ناز، وہ شوخی، وہ ستم عشوہ، وہ تیزی، وہ بلا قبا دائیں، وہ تری زہر جفائیں، وہ قیامت کی نگاہیں، وہ تراروپ وہ رنگت، وہ تراحسن وہ پچھل بل، جو گئے یہ تو دوبارہ، نہیں تو پائے گا ہرگز، رہے گو لاکھ تو سوجان سے جویا · · · پانچواں مصرع یہ تماشہ ہے کہ الٹی مجھ سے انہیں الفت، مجھے ان سے نفرت، انہیں مجھ سے رغبت، مجھے کلفت انہیں حسرت، مجھے حیرت، کہ بڑی آتی ہے مجھے کو انہیں رونا، وہ مرے عشق میں روتے ہیں، میں ہنستا ہوں، وہ کرتے ہیں شکایت، مجھے ہوتا ہے تکذّر، وہ وفاوں کے ہیں طالب، مجھے منظور جفائیں، وہ محبت کے طلب گار، میں اس رسم سے بیزار، انہیں چاہ کا ارمان، مجھے ظلم کی خواہش کہ مجھے یونی ان کو ستاوں، مجھے جس طرح انہوں نے ہے یونی ان کو جلاوں، مجھے جس طرح جو ان کو رُلاوں، مجھے جس طرح ہے گڑھایا ہے یونی ان کوگڑھاوں، جو ہوا ہوں مہر کے طالب، تو کروں جور وجفائیں، چاہیں کہ بڑوں، تو تکروں ان سے دغائیں، وہ خوشی چاہیں تو غم دوں، جو نچیں چاہیں تو دم دوں، جو کروں وعدہ فردا، تو مہیں خبرلوں، جو کروں آج کا اقرار، تو برسوں میں ہو پورا، سو وہ پوری بھی ہو کیسے، کسی ملوں دل کے ستاوں، قلق بڑھاوں، کہیں کچھ تو ہوں رہنے دو، فرصت نہیں سنے کی، ہنسوں بھی تو بس اس کان سے اس کان ادوں، وہ کہیں بہر خدارم کرو، مجھ سے مصیبت نہیں اٹھتی! یہ نیار نگبرہ منہ ہے کہ میں تم پہ فداہوں، کروتم یاد وہ گھڑیاں کہ مری چاہ میں تم رہتے گریاں، یہ ستم کیا ہے کہ معشوق سے رہتے ہو کشیدہ وکیبدہ · · · چھٹا مصرع نہیں شک اس میں ذرا بھی، یہ مشکل سچ ہے کہ آتا ہے کیا اپنے ہی آگے، انہیں دیکھو کہ تاتے تھے، جلاتے تھے مر لو، ڈکھاتے تھے گڑھاتے تھے مہینوں صفت شمع گلاتے تھے، جفاوں کو بڑھاتے تھے، محبت کو گٹھاتے تھے، تم مجھ پہ وہ ڈھاتے تھے کبھی منہ کو چھپیاتے تھے کبھی آنکھ چراتے تھے نہ آتے تھے نہ جاتے تھے، فقط دور سے باتیں ہی بناتے تھے، نیا روزوہ طوفان اٹھاتے تھے، مرے دل پہ برابر بھاتے تھے، اب ایسے ہیں، کہ میں ان کو ستاتا ہوں، جلاتا ہوں رُلاتا ہوں، بہت دل کو دکھاتا ہوں گڑھاتا ہوں، مہینوں صفت شمع گلاتا ہوں، جفاوں کو بڑھاتا ہوں محبت کو گٹھاتا ہوں، تم ان پہ یہ ڈھاتا ہوں، نہ آتا ہوں نہ جاتا ہوں، فقط دور سے باتیں ہی بناتا ہوں کبھی منہ کو چھپاتا ہوں، کبھی آنکھ چراتا ہوں، نیا روز میں طوفان اٹھاتا ہوں، میں اس دل پہ بہت برعب بڑھاتا ہوں، جو ودہ حال دکھاتے ہیں، ہی سناتا ہوں ہی وفاوں سی نظر ہے، نہ محبت کی خبرہے، جو وادھر حال تھا پہلے، وہی اب حال ادھر ہے، جو بیہ بدلا ہوا عالم ہے توآس کا نامہ اثر ہے، وہی اب سینہ بپر ہے، جو بجا پنچ رتا قاتل، جو جفاوں میں تھا کامل، جو کیا کیا کرتا تھا غزے، یہ عجب رنگ محبت ہے کہ جور رنج سے روتا تھا، وہ ہنستا ہے، جو ہنستا تھا وہ رویا · · · ساتواں مصرع ہے پئے گلگشت گلستاں کو گئی اُن کی سواری، جو چلی بہاری تو کھلی باد بہاری تو کھلی پھولوں کی کیاری، کہیں کلیاں ہوئیں ظاہر، کہیں گنچے ہوئے پیدا، کہیں بیلا، کہیں لالہ، کہیں سوں کہیں شبو، کہیں جوہی کہیں گیندا، کہیں چمپا، کہیں نرگس ہوئی شاخوں پہ نمودار، وہ شاخیں جو برنگ سر تسلیم جھکیں، تا کہ قدم لیں، گل نورُستہ خوبی کہ جیسے ٹوکے، شایاں ہے کہ جب تک ہے وہ خورشید نظر، رشکِ قمر، غیرتِ گل ہائے چمن، ہیم بدن، ماہ جبیں، غنچہ دہن، دیکھے اگر اُس کی پھبن، گل ہو وہی ہو شمع، لگے جس کی نظر سامری فن، جس کی مژہ تیر فگن، ہے یہ اُسی کے لیے سامان مہیّا، ہے اِسی کے لیے اسباب فراہم، کہیں سبزے کا بچھا فرش کہ سوئے وہ گل تر، کہیں میووں کے لگے ڈھیر کہ کھائے وہ ستم بر، کہیں بھرے حوض کہ پی لے وہ ستم گر، کہیں پتری کی تمنا کہ قدم اس کے میں چوموں، کہیں مہندی کی یہ خواہش کہ مجھے پاس ہی ڈالے، کہیں میووں کی یہ حسرت کہ ہمیں توڑ کے چھینکے، کہیں شاخوں کا یہ منشا کہ یہاں سائے میں بیٹھے، کہیں پانی کا یہ مطلب کہ یہاں آکے نہائے، کہیں پھولوں کا یہ ارمان کہ ہم سایہ فگن ہوں، کہیں قمری کو تجھس کہ یہ گلو، کہیں، بلبل مثلاثی کہ کدھر ہے، بت گل رو بت گل رو · · · آٹھواں مصرع جو گیا عالم وحشت میں یہ دیکھا کہ بڑی دھوم مچی ہے، بڑا ہنگامہ برپا ہے، مجھے معلوم ہوا، جذبہ الفت کی بدولت کہ وہ آئیں گے، مجھے جن سے تعلق ہے، مجھے جن سے محبت ہے، لگاوٹ ہے، اسی وجہ سے میں بیٹھ گیا تاکہ میں دیکھوں، بُت طنّاز کا آنا کہ بس اتنے میں نمودار ہوا وہ گل رعنا، جیسے خسرو نے کہا، "تازہ جواں، ٹموئے میاں، پستہ دہاں، آفت جاں، جانِ جہاں، روز رنگے، زلف شے، درد نے، لعل لبے، لیے، یوسفے چہر وذقنے، سینہ انارے، گل بے زحمت خارے، مل بے رنج خمارے، سخن جملہ مسیحے، بزباں جملہ فصیحے، بہ نظر جملہ فنے، آہوئے ضیغم فگنے، زلف دو تارہ زنے، عشوہ کنے، غمزہ زنے، چرخ ندیدہ بہ ہر دو جہاں، ڈپچو بشر، گیسوئے مشکیں شاگرد اگر دست رسائی ہو نہ درندہ راہ گزر، کس نرسائندہ نظر ہم، نہ خزاں دیدہ بہار، نہ چوں بیدانہ انارش" مرے نزدیک جو اویسا ہو، اسے کیا لکھوں مفصّل کہ وہ کیسا ہے، بعد ناز اُتر کے گلی بلبل یہ سنانے، کہ کیا دیان یہ خدانے، جو لگے باغ تم آنے، گل گلشن کو ہنسانے، مرے سننے کو تِرانے، مرے نزدیک نہیں اس میں، مرے شک کہ بر پڑی جان چمن میں، یہ چمن جسم کی تم ہی مری جان ہو، جان ہو گویا

Favourite Poets

فیض احمد فیض

Faiz Ahmed Faiz

1911 – 1984

مرزا غالب

Mirza Ghalib

1797 – 1869

میر تقی میر

Mir Taqi Mir

1723 – 1810

احمد فراز

Ahmed Faraz

1931 – 2008

ذوق

Zauq

1790 – 1854

جون ایلیا

Jaun Elia

1931 – 2002

Want to read new poems as they arrive?

Subscribe for direct delivery — no noise, just work.